کمپیوٹرائزڈ برٹھ رجسٹریشن دفتر کو لنڈیکوتل شفٹ کیا جائے، لنڈیکوتل کی عوام کو تحصیل باڑہ جانا پڑتا ہے: سیاسی و فلاحی رہنماوں کا مطالبہ

0
462

فاٹا وائس نیوز ایجنسی 
لنڈیکوتل: ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے سیاسی رہنماوں اور فلاحی تنظیموں کے مشران نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل باڑہ سے کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفیکیٹ کے دفتر اورلنڈیکوتل کے لئے تعینات عملہ کو تحصیل لنڈیکوتل ٹرانسفر کیا جائیں تاکہ مقامی لوگ آسانی کے ساتھ برتھ سرٹیفیکیٹ حاصل کرسکے ۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں عبد الرازق شینواری، یادوزیر شینواری اور لنڈیکوتل فلاحی تنظیم کے رہنماوں حاجی بنارس شینواری اور اخترعلی شینواری نے میڈیا کو بتایا کہ لنڈیکوتل تحصیل اور دور دراز علاقوں بازار ذخہ خیل اور شلمان کی عوام کو تحصیل باڑہ جاکر نادرا کے کمپیوٹرائزڈ نکاح ناموں، وفات اور پیدائشی سرٹیفکیٹس کے حصول میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رہنماوں کا کہنا تھا کہ لوگوں کو متعلقہ فارم کے حصول کے لئے لنڈی کوتل سے 57 کلومیٹر دور باڑہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور دور دراز علاقوں بازار زخہ خیل، کم شلمان، لوئے شلمان کے لوگوں کو تو مزید دقت اور ذہنی تناو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
رہنماوں نے کہا کہ باڑہ میں متعلقہ آفس تک رسائی اور وہاں سے فارم کا حصول ایک بہت کٹھن کام ہے۔ فارم کے حصول کے بعد اس فارم میں اندراج اور تصدیق کے لئے واپس لنڈی کوتل تحصیل لانا پڑتا ہے۔ پھر تصدیق کے بعد دوبارہ باڑہ لے جاکر جمع کرنا پڑتا ہے۔ جمع ہونے کے بعد سرٹیفیکیٹ کے حصول کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ 
سیاسی رہنماوں نے کہا کہ لوگوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اکثر سرٹیفیکیٹس عملے کی غفلت کی وجہ سے گم ہوجاتے ہیں اور اکثرت اوقات دفتر کا عملہ ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ ایک بندے کو ایک سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے باڑہ کے دس چکر لگانے پڑتے ہیں۔ اعداد و شمار اور لوگوں کی شکایات سے معلوم ہوا ہے کہ ان سرٹیفیکیٹس میں عملے کی غفلت کی وجہ سے بہت زیادہ غلطیاں ہوتیں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسی سرٹیفیکیٹ میں کوئی غلطی نکل آئے تو سارے کا سارا عمل از سر نو دوہرانا پڑتا ہے۔ اس کام میں لوگوں کا وقت اور پیسہ دونوں برباد ہوتے ہیں۔ 
مقامی لوگوں اور ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ نادرا نے لنڈی کوتل اور گردونواح کے لوگوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ سال سے لنڈی کوتل کے عوام کے لئے اپنا الگ سیکشن متعارف کروایا ہے مگر ذمہ دار افسران ذاتی مفادات کے چکر میں لنڈی کوتل میں دفتر منتقل کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ 

سیاسی رہنماوں نے وزیر اعلی،گورنر خیبر پختونخوا اور ڈپٹی کمشنرضلع خیبر سے پرزور مطالبہ کیا لنڈیکوتل کی عوام کی سہولت کے لئے باڑہ سے پیدائش کے اندراج کا دفتر فوری طور پر لنڈیکوتل تحصیل منتقل کیاجائے تاکہ مقامی اور دوردراز کے لوگوں کو سہولت میسر ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here