پاک افغان تجارت کا خاتمہ لوگوں سے روزگار چھیننا ہے: زاھد اللہ شینواری

0
974
زاھد اللہ شینواری کا فاٹا وائس کے ساتھ خصوصی انٹرویو

انٹرویو: نصیب شاہ شینواری
لنڈیکوتل: مالی طور پر مستحکم و خوشحال پاکستان ، فاٹا اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کو امن سے مشروط کرتے ہوے جنوبی ایشیا علاقائی تعاون تنظیم کے ممبر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاھد اللہ شینواری نے کہا ہے کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے تاجروں اور لوگوں کا زیادہ انحصار افغانستان کے ساتھ تجارت پر ہے اور جب یہاں کی عوام مالی طور پر مستحکم اور خوشحال ہوتب یہاں امن قائم ہوگی اس لئے حکومت پاکستان پاک افغان تجارت کو بحال کرنے اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈکو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔

زاھداللہ شینواری ،ممبر جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم اور صدرسرحد چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری نے گزشتہ روز فاٹا وائس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا کہ پاک افغان تجار ت 2014کے دوران ساڑھے دو ارب ڈالرز سے کم ہوکر ساڑھے ایک ارب تک پہنچ گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جون 2017میں یہ تجارتی حجم مزید کم ہوکر 900ملین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور حال ہی میں وزارت تجارت کے مطابق پاک افغان تجارت 500ملین ڈالرز تک گر چکا ہے جس کی وجہ سے ہماری ملکی معیشت اور عام لوگوں کی تجارت بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔
زاھد اللہ شینواری نے کہا کہ افغانستا ن پاکستان کی برآمدات کی مد میں تیسرا ملک تھا جہاں پاکستان کی زیادہ اشیاء ایکسپورٹ ہوتی تھی لیکن اب یہ برآمدات انتہائی افسوسناک حد تک کم ہوگئی ہے جس کے برے اثرات عام لوگوں اور قبائلی عوام پر پڑ رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاک افغان تجارتی حجم بہت کم ہوچکا ہے جس کا بھارت اور ایران بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا جو اشیاء پاکستان سے برآمد ہوتی تھی اب یہ اشیا ء افغانستا ن کو بھارت اور ایرن بر آمد کرتے ہیں اور پاکستانی اشیا ء کی مارکیٹ کو گھیر لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سے برآمدات کی مد میں افغانستان برآمد ہونے والی گندم اور آٹے کی مارکیٹ بھی بھارت نے گھیر لی ہے جو پاکستانی ایکسپورٹس کے لئے ایک اور نقصان ہے۔
پاک افغان بارڈر طورخم پر ڈرائی پورٹ اور ٹرمینل کے حوالہ سے انھوں نے کہا کہ تجارتی کو فروغ دینے کے لئے اگرچہ انفراسٹرکچر کی بہت ضرورت ہے لیکن اس سے زیادہ حکومت کو ایسی نرم پالیسیاں بنانی چاہئے جس کی وجہ سے پاک افغان تجارت کو فروغ مل سکے اور دونوں مسلم ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات اور تجارتی معاہدے ہو، انھوں نے کہا کہ خوشگوار تعلقات اور پائیدار تجارتی معاہدے دونوں ممالک کی معیشت اور لوگوں کو ترقی اور خوشحالی دے گی۔
پاک افغان ٹرانزٹ معاہدے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ 2016میں اس معاہدے کی تجدید کرنی تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی ہے ۔انھوں نے کہا کہ افغانستان کا یہ مطالبہ غلط اور بلاجواز ہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں بھارت کو بھی حصہ دار بنایا جائے، انھوں نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے میں بھارت کی پارٹنرشپ کا کوئی جواز نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاک افغان تجارت میں کمی کی ایک وجہ حکومتی غلط پالیسیاں ہیں، حال ہی میں حکومت نے ریگولیٹری ڈیوٹی اور کورینٹائن سرٹیفیکیٹس کے جو مسائل پیدا کی ہیں، ان اضافی ٹیکسوں کی وجہ سے بھی پاک افغان تجارت کم ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ بھی متاثر ہوچکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستا ن کے درمیان تجارتی حجم کم ہونے اور تجارت کا خاتمہ قبائلی اور خیبر پختونخوا کی عوام سے روزگار چھیننا ہے جس کی مستقبل میں برے اثرات ہوسکتے ہیں۔
طورخم میں کسٹم کلیرنس ایجنٹس اور تاجروں کے مسائل کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ متعلقہ حکام سے مسلسل رابطہ میں ہے اور بہت جلدی طورخم بارڈر پر کسٹم کلیرنس ایجنٹس کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ کورینٹائن سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لئے ادارہ بارڈ پر موجود نہیں جس کی وجہ سے مقامی کسٹم ایجنٹس کو مشکلات ہے، انھوں نے کہا کہ حکام نے کورینٹائن سرٹیفیکیٹ کے حوالہ سے تین مہینے کا ریلیف ٹایم دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاک افغان تجارت کی بحالی اور بہتربنانے کے لئے مذاکرات کی بندش بھی دونوں ممالک کی معیشت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، پاک افغان تجارت کی بحالی اور اس کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت پر ڈیڈ لاک ختم ہونا چاہئے، انھوں نے کہا کہ پاک افغان تجارت کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے مذاکرات کا عمل بحال ہونا چاہے اور حکومت کو ایسی پالیساں بنانی اور نافذ کرنی چاہئے جس کی وجہ سے پاک افغان تجارت ایک دفعہ پر بحال ہو جس کا مثبت اثر دونوں ممالک کی معیشت پر ہوگا اور بہتر تجارت سے دونوں ممالک کے لوگ بھی مالی طور پر مستحکم ہونگے اور جب مالی طور پر لوگ مستحکم ہو تو ملک میں امن اور خوشحالی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here