پاکستان کی آئین میں فاٹا کیلے الگ صوبے کی کوئی گنجائش نہیں

0
893

جمرود: خیبر ایجنسی کی این اے45 سے رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی 1973 کے آئین میں فاٹا کیلے الگ صوبے کی کوئی گنجائش نہیں،مولانا فضل الرحمان فاٹا کو اپنی مفادات کیلنے استعمال کرتے ارہے ہیں۔    

تفصیلات کے مطابق،خیبر ایجنسی این اے45 سے رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نےجمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا،کہ پاکستان کی ‘آئین میں فاٹا کی عوام کیلےالگ صوبے کی کوئی گنجائش نہیں ہیں لہذا فاٹاکو خیبر پختون خوا میں ضم کرنا قبائلی عوام کے لیے بہتیر اور مفاد میں ہیں۔اور اکثریت قبائلی عوام خیبر پختون خوا میں ضم ہونا چاہتے ہیں

الحاج شاہ جی گل کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام میں کوئی بھی رکاؤٹ قابل قبول نہیں۔اورجو بھی رکاوٹ بننے کی کوشش کریگا۔وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگا اور اسے شکست کھانی پڑیکی۔
اسلام آباد میں الگ صوبے کے لئے احتجاج کرنے والی جمعیت علماء اسلام ف اور فاٹاسپریم کونسل پر تنقید کرتے ہوے” شاجی” نے کہا،کہ دو کی ٹولہ والا اسلام باد جلسہ مکمل طور پرناکام تھا۔
اور یہ لوگ اُس وقت کہا تھیں جب فاٹا پربارود کی بارش اور بمباری ہورہی تھی
اور لاکھوں قبائل نقل مکانی کرکے در بدر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے۔
رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی نے کہا ،کہ مولانا فضل الرحمان نے ہر دور میں فاٹا کو اپنی مفادات کیلے استعمال کیا ہیں۔اور اب فاٹا کےعوام بیدار ہوچکے ہیں۔اور مولانا کی جھوٹی چالوں میں نہیں اییںگے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here