قبائل کی اپنی الگ شناخت ہے، الگ صوبہ دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن

0
1370

اسلام اباد: اسلام آباد میں فاٹا کےپی کےانضمام کیخلاف جمعیت علماء اسلام ف اور فاٹا سپریم کونسل کےزیر اہتمام منعقدہ جلسے سے اپنے خطاب میں امیر جمعیت علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمٰن نےکہا کہ مٹھی بھر افراد کی خواہش پر فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی.قبائلی عوام پاکستان کے آزاد شہری ہیں اور انہیں الگ صوبہ دیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق،اج اسلام اباد میں چائنہ چوک کے مقام پر جمعیت علماء اسلام ف اور فاٹا سپریم کونسل نے فاٹا انضمام کے خلاف ایک بڑا جلسہ کرکے اپنے طاقت کا مظاہرہ کیا جس جمعیت علماء اسلام ف اور فاٹا سپریم کونسل کے علاوہ دوسری سیاسی پارٹیوں کی ورکروں نے بھی شرکت کی۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قبایلی عوام کی مرضی کے خلاف کوی فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
انہوں نےکہا کہ جمعیت علماء اسلام ف کی قیادت قبائل کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی حمایت میں ان کا بڑھایا ہوا ہاتھ کٹ تو سکتا ہے لیکن واپس نہیں ہوسکتااور وہ اپنے موقف پر ڈٹےہیں اور رہیں گے اور آج بھی قبائلی عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔
مولانا نےکہا،کہ گلگت بلتستان کو مقامی حکومت دی جا سکتی ہے تو قبائلی علاقوں کو کیوں نہیں؟
انہوں نے قبائلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا انضمام کی مخالفت میں قبائل کا اٹھنا دراصل ایک تحریک ہے اور تحاریک قیدوبند کی صعوبتوں سے مرتی نہیں بلکہ اور زور و شور کے ساتھ اٹھتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا میں انضمام کے حوالے سے قبائلی عوام کو دباؤ میں نہیں لایا جا سکتا آئین پاکستان میں قبائل کی اپنی الگ شناخت ہے اور اپنی سرزمین پر قبائل اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں گے۔
جلسہ سے قبائلی عمائدین اور پختون خوہ ملی عوامی پارٹی کی مقامی قیادت نے بھی خطاب کیا.
قبائلی عمائدین نے فاٹا انضمام کی حمایت اور الگ صوبے کی مخالف صحافی سلیم صافی پرکھڑی تنقید کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here