غریب قبائلی عوام کے ساتھ ظلم بند کیا جائے، فاٹا میں ماتحت عدالتیں جلد قائم کی جائیں: باجوڑ ایجنسی سیاسی رہنماوں کا مطالبہ

0
562
نمائندہ فاٹا وائس
باجوڑایجنسی: پاکستان تحریک انصاف باجوڑ ایجنسی کے رہنماوں نے لاہور میں غریب قبائلی مزدوروں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی شد ید الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی عوام کے ساتھ یہ ظلم بند کیا جائے۔
سانحہ داتادربار لاہورمیں باجوڑ ایجنسی کی دوشہداء پختون مزدوروں کاخون رائیگاں نہیں جائیگا۔ ڈاکٹرضیائاللہ ضیاء
گزشتہ روزداتادربارلاہورکیسامنے دن دیہاڑے3قبائلی پختون مزدوروں کالرزہ خیزقتل پرباجوڑمیں سوگ اورجگہ جگہ پرمزمتی ریلیاں نکالنے پر عوام کے شکر گزار ہیں۔
اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی ٓئی باجوڑ ایجنسی کے رہنماء ڈاکٹرضیاء اللہ نے کہاکہ 14جنوری 2018کومحب وطن اور غریب قبائلی پشتون اپنے خاندان والوں کے لئے حلال روزی کمانے میں مشغول تھے کہ ان پر خود کار اسلحہ سے اندھا دھند فائرنگ شروع کی گئی جس کے نتیجے میں تین مزدور جاں بحق جبکہ چار شدید زخمی ہوگئے۔
انھوں نے قبائلی پشتونوں کے خلاف اس ظلم کی کاروائی پر خاموش پاکستانی سیاستدانوں اور حکومتی رہنماوں پر سخت تنقید کی اور کہا کہ قبائلی عوام محب پاکستان ہیں لیکن پھر بھی ان کے ساتھ امتیازی سلو ک کیا جاتا ہے جو قابل مذمت ہے۔
انھوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جائے اور فاٹا کے قبائل کے ساتھ پاکستان کی دوسرے شہروں میں یہ امتیازی سلو ک اورظلم بند کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاٹا میں ماتحت عدالتیں جلد قائم کی جائیں: احمد زیب ایڈوکیٹ
نمایندہ فاٹا وایس
باجوڑایجنسی: جمعیت علمائے اسلام باجوڑ ایجنسی کے رہنمااور ممتاز قبائلی قانون دان نے فاٹا تک سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ کا دائراختیار کو توسیع دینے کے بل کا خیر مقدم کرتے ہوے کہا ہے کہ اس بل کے نفاذ سے قبائلی عوام کو پاکستان کی اعلی عدلیہ سے انصاف ملے گا۔
جمعیت علمائے اسلام باجوڑ ایجنسی کے رہنما اور ممتاز قانون دان احمدزیب خان ایڈوکیٹ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ اس بل کی وجہ فاٹا کے عوام کی پچاس فیصد محرومیوں کا ازالہ ہوجائے گا۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا میں بنیادی انسانی حقوق ناپید تھے اور یہاں کی عوام کو یہ حق حاصل نہیں تھا، کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردیں لیکن اب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے اپیل کرسکتے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا کے مختلف جیلوں میں قیدیوں کو بھی اس بل کے نفاذ سے بہت جلد ریلیف مل جائے گا اور وہ اپنے کیسز ہائی کورٹ لیجا سکیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس بل سے فاٹا کے عوام کو صرف پچاس فیصد ثمرات حاصل ہوئے ہیں سو فیصد ثمرات تب فاٹا کے عوام کو مل سکتے ہیں جب فاٹا میں ماتحت عدالتوں کا ڈھانچہ قائم ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا کے عوام کے ساتھ مخلص نہیں اور ان کے ساتھ اگر واقعی ہمدردی رکھتی ہے تو فاٹا میں ماتحت عدالتیں قائم کریں اور فورا اس بل پر عملدرآمد کے لئے اقدامات کریں تاکہ فاٹا کے قبائل کی محرومیوں کا ازالہ ہوجاسکے۔۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here