ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس نے مشیر صحت سے پانی،بجلی اورگایناکالوجسٹ ڈاکٹر کا مطالبہ کردیا,ہسپتال میں ڈاکٹرز کا احتجاج بھی ختم

0
911

نصیب شاہ شینواری

لنڈیکوتل: ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں ڈاکٹروں نے بجلی کی معطلی کے خلاف جاری ہڑتال کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔، اٹھارہ گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا ئیگی،ذرائع، صوبائی وزیر صحت کے مشیر ڈاکٹر جواد نے ہسپتال کا دورہ کر کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی،ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد جاوید نے مشیر صحت کے سامنے پانی، بجلی، گائناکالوجسٹ اور ڈائلاسیز مشین چلانے کے لئے سٹاف فراہم کرنے کے مطالبے پیش کئے ۔

قبائلی ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کے ڈاکٹروں نے دو دنوں سے جاری لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج ختم کر دیا، احتجاج ختم کرنے کے بعد ہسپتال میں ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ شروع کر دیا۔ ہسپتا ل ذرائع

گزشتہ روز مشیر صحت ڈاکٹر جواد نے مذکورہ ہسپتال کا دورہ کیا اور ہسپتال کے انتظامیہ کے ساتھ ملے، ہسپتال کے ایم اس ڈاکٹر خالد جاوید نے مشیر صحت کے سامنے ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی اسامیوں پر ڈاکٹرز تعینات کرنے کا معطالبہ کردیا۔ ڈاکٹر جواد نے ہسپتال  انتظامیہ کو ہسپتال کے جملہ مسائل حل کرنے کی  یقین دہانی کرائی۔  

اس سلسلے میں وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری نے اپنے نمائند وں کو بدھ کے روز لنڈی کوتل ہسپتال بھیجا جہاں انہوں نے لنڈی کوتل ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد جاوید کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے۔
مذاکرات میں جاری لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس میں دو ارکان ہسپتال کے، دو محکمہ صحت کے اور دو ٹیسکو سے لئے گئے ہیں کمیٹی ایک ماہ کے اندر اندر ہسپتال میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حل نکالیں گی مذاکرات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کل یعنی جمعرات سے ہسپتال کو 18 گھنٹے بجلی بحال ہو گی۔

ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خالد جاوید شلمانی نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپتال میں دو روز سے جاری بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج ختم ہونے کے بعد ہسپتال میں ڈاکٹروں نے مریضوں کا معائنہ شروع کر دیا اور ہسپتال میں مستقل طور پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے واپڈا حکام اور ہسپتال کے سٹاف کے ساتھ مزاکرات ہونگے جس میں ہسپتال کی بجلی لوڈشیڈنگ سے پیدا شدہ صورتحال پر بات چیت ہوگی اور تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کرینگے۔ 

یادر ہے کہ لنڈی کوتل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے منگل کے روز سے احتجاج شروع کیا تھا جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا تھاہسپتال کی انتظامیہ کے مطابق علاقے میں بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے باعث ڈاکٹروں کو مریضوں کے علاج معالجے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور مجبور ہوکر یہاں کے لوگ اپنی مریضوں کو پشاور لے جاتے ہیں۔ 

واضح رہے کہ مذکورہ ہسپتال پر ٹیسکو حکام کے بجلی کی بل کی مد میں 8 کروڑ 32 لاکھ روپے واجب الادا ہیں اور اس سلسلے میں ہسپتال انتظامیہ کو بار بار نوٹس بھی جاری کیے گئے مگر ابھی تک یہ رقم ادا نہیں کی گئی۔

مقامی لوگوں ،سول سوسائیٹی ممبرز اور سیاسی رہنماوں نے وزیر اعلی اور گورنر خیبر پختوا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈیکوتل میں جن سپیشل ڈاکٹرز کی اسامیاں خالی ہیں، ان پر ڈاکٹرز تعینا ت کئے جائیں۔ رہنماوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں لیڈی گایناکالوجسٹ ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے زنانہ مریضوں کو مجبورا پشاور لے جانا پڑتا ہے اور اکثر راستے میں مریض دم توڑتی ہیں۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here