پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں، پاکستان کے متعلق مغربی پرپیگنڈہ جھوٹ ہے: ڈاکٹر نور الحق قادری

0
830
لنڈیکوتل: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری جرگہ ہال میں پارٹی ولیڈرز اور انتظامیہ افسران کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے ہیں

نصیب شاہ شینواری 
لنڈیکوتل: گزشتہ روز تحصیل لنڈیکوتل جرگہ ہال میں دو مختلف تقاریب کے شرکاء سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ اور ان کو اسلامی قوانین کے مطابق حقوق حاصل ہیں۔

 
لنڈیکوتل پریس کلب کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے نور الحق قادری نے کہا کہ قبائلی صحافی ملک کا قیمتی سرمایہ ہے جنھوں نے اپنی صحافتی سرگرمیوں کے دوران اپنی جانیں قربان کردی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صحافی کو رپورٹنگ کرتے ہوئے کسی کی جانبداری نہیں کرنی چاہئے۔ قادری نے کہا کہ جب صحافی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو پھر وہ قوم اور عوام کی ترجمانی نہیں کرسکتے ۔ انھوں نے کہا لنڈی کوتل پریس کی تعمیر کے لئے متعلقہ ادارے اور افسران سے بات کی اور جلد لنڈیکوتل پریس کلب کی تعمیر پر کام شروع کیا جائے گا۔

 
اسی جرگہ ہال میں عیسائی کمیونیٹی کی کرسمس کی خوشی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اسلامی قوانین کے مطابق ملک میں اقلیتی برادری کو مکمل

لنڈیکوتل: جرگہ ہال میں عیسائی بچے کرسمس کی خوشی میں سٹیج پر اپنی فن کا مظاہرہ کررہے ہیں

تحفظ اور انھیں مکمل حقوق دیتی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے متعلق اقلیتی حقوق کے حوالے سے مغربی پروپیگنڈہ غلط اور غلط فہمی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کرتار پور بارڈر پر سکھ برادری کے لئے نرمی کا اعلان کرکے عمران خان نے دنیا میں کروڑوں سکھ برادری کے دل جیت لئے ہیں۔

 
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہشمند ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت دوسروں کی اشاروں پر عمل نہ کریں ،انھوں افغانستان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک افغانستان بیرونی مداخلت اور اشاروں پر چلتا رہے ،پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات اور خطہ میں امن ناممکن ہے۔

 
قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کے خاتمہ اور فاٹا اصلاحات کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ جب وہ پچھلی حکومتوں میں پارلیمنٹ میں عوامی نمائندہ کی حیثیت سے موجود تھے تو انھوں نے نے بھی ایف سی آر کے خاتمہ اور سابق فاٹا میں اصلاحات لانے کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی ۔ انھوں نے کہا کہ سابق عوامی نمائندوں اور حکومت کے ساتھ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے مکمل پلان نہیں تھی اور اب قبائلی

لنڈیکوتل : جرگہ ہال میں عیسائی کمیونیٹی کے لوگ کرسمس کی خوشی میں ایک تقریب میں شریک ہیں

علاقوں میں کوئی قانون نافذنہیں ۔ 

قادری نے کہا کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا اور اب اس فیصلہ واپس لینا ناممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ انضمام کے فیصلہ کو ختم کرنے اور قبائلی علاقوں کو پھر وہی سٹیٹس دینے کا مطالبہ کرنے والے احمقانہ مطالبہ کررہے ہیں جس کو پورا کرنا ناممکن ہے۔

 
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے قبائلی علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے لئے ساڑے ایک ارب روپے کی پیکج ریلیز کردی ہے جو قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کردی جائی گی۔

 
انھوں نے کہا کہ سابق حکومت اور عوامی نمائندوں کے ساتھ قبائلی علاقوں کے حوالے سے کوئی رسمی پلان اور فریم ورک نہیں تھا جس کی وجہ سے یہ علاقے اب بھی کسی قانون اور دستور سے محروم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے بھی فاٹا اصلاحات کو نافذکرنے کا مطالبہ کیا لیکن یہ اصلاحات وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ لانی چاہئے تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here