دورافتادہ علاقوں کے سرکاری سکولوں میں طلبا ء کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ

0
233

محراب شاہ آفریدی
لنڈیکوتل: خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈیکوتل کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ کی سخت کمی ہے ، پرائمری کلاسز کی سات کلاسز میں سینکڑوں بچوں کے لئے صرف دواساتذہ نا کافی ہیں، اثر رسوخ والے بااثر اساتذہ ڈیوٹیاں نہیں کرتے،جبکہ استانیوں کی بھی سخت قلت ہے، سی ٹی پر ترقی پانے والے اساتذہ کے انکار کے بعد نئے اساتذہ کو ترقی نہیں دی جار ہی، محکمہ تعلیم خیبر ایجنسی کے آفسران کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے سکولوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں، کلاس فور ملازمین متبادل روزگار کرتے ہیں، سکولوں میں فرنیچر، وائٹ بورڈز بھی نہیں، بچوں کو کیسے پڑھائیں، اساتذہ کی شکایت، اور خیبر یوتھ فورم کے صدر عامر آفریدی کا بیان ۔

لنڈی کوتل کے دور افتادہ علاقوں میں قائم سکولوں میں طلباء کے بیٹھنے کیلئے ٹاٹ تک موجود نہیں، بازار ذخہ ، کرمنہ ، برگ ، الاچہ اور درگئی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں میں اگر ایک طرف اساتذہ اور استانیوں کی سخت کمی ہے وہاں دوسری طرف ان دورافتادہ سکولوں میں وائٹ بورڈز، بلیک بورڈز، کرسیاں اور ٹیبل تک نہیں جبکہ ان بچوں کے کمروں میں سلور لائٹ کا نظام تک نہیں حکومت کے اعلیٰ عہدیدار آئے روز فاٹا میں تعلیمی ضروریات پوری کرنے ، طلباء کو سہولیات دینے ، اساتذہ کی کمی کو پوری کرنے کے دعوے تو کرتے رہتے ہیں لیکن عملاً ان دورافتادہ علاقوں میں قائم تمام سکولوں میں ہر طرح کی سہولیات کی کمی ہے جبکہ ان سکولوں میں طلباء کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے اور ان علاقوں کے والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے معیاری تعلیم حاصل کریں لیکن محکمہ تعلیم خیبر ایجنسی کے افسران لنڈی کوتل میں باصلاحیت اساتذہ کو جان بوجھ کر دور دراز کے علاقوں کو ٹرانسفر کرتے ہیں اور اس طرح ان اساتذہ کی مشکلات بڑھاتے ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ لنڈی کوتل میں ایسے پرائمری، مڈل اور ہائی سکول موجود ہیں جہاں طلباء سے زیادہ اساتذہ کی تعداد ہے جبکہ دور افتادہ علاقوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا نہیں کیا جاتا اور کہیں ایک اور کہیں دو اساتذہ تعینات ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں طلباء کو ایک وقت میں نہیں پڑھا سکتے۔

 
ذرائع سے یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اساتذہ باہمی تبادلوں کے وقت بھاری رقوم بطور رشوت دیتے ہیں جس پر بھی محکمہ تعلیم خیبر ایجنسی نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اسی طرح ان سکولوں کے کلاس فور ملازمین بھی ڈیوٹی نہیں کرتے اور بعض جگہوں پر تو بااثر اساتذہ اور کلاس فور مر دو خواتین نوکر اور نوکرنیاں سکولوں کا رخ ہی نہیں کرتے جس پر محکمہ تعلیم خیبر ایجنسی نے آنکھیں بند کر دی ہیں۔

خیبر یو تھ فورم کے صدر عامر آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ایجوکیشن آفیسر خیبر ایجنسی کو ہدایات جاری کریں کہ جن سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہیں ان کو پورا کیا جائے ۔ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اگر ایجوکیشن آفیسر بااثر اساتذہ کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتے تو ان کو فوری طور پر ٹرانسفر کیا جائے۔ 

اس مسلہ کے حوالے سے جب ایجنسی ایجو کیشن آفیسرجدون وزیراور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر سلیم خان سے رابطہ کیا گیا تو تادم تحریر ان کی طر ف سے کو ئی وضاحت یا جواب موصول نہ ہوسکا۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here