لنڈیکوتل کے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار نے عالمی انسانی اور بچوں کے حقوق کی دھجیاں اڑا دی

0
761
فائل فوٹو : گوگل

نصیب شاہ شینواری
لنڈیکوتل: ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار نے ایک کم سن بچے کو جیل میں ڈال کر کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈرن اور ہومن رائٹس آف پاکستان کمیشن کی دھجیاں اڑا دی۔

ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق لنڈیکوتل حوالا ت میں تقریبا چھ سال کا بچہ بھی قید ہے جس کو کئی دنوں سے ذہنی دباو اور مایوسی کا سامنا ہے۔ بچے کا نام معلوم نہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ وہ ضلع باجوڑ کا رہایشی ہے اور وہ اپنے والد عبدالحسن کے ساتھ طورخم بارڈرپر سیکوریٹی حکام نے گرفتار کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے کے والد کو شک کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے جس کو پھر مقامی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ اس سلسلے میں جب اسسٹنٹ کمشنر محمد عمران سے ان کا موقف جاننے کے لئے ان کے موبائل فون پررابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے فون اٹیند نہیں کیا۔

فلاحی اور انسانی حقو ق کی تنظیموں نے انتظامیہ کو ایک کم سن بچے کو جیل میں ڈالنے پر سخت تنقید کی ہے اور پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بچے کو جلد ضلع باجوڑ اپنے گھر منتقل کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here