لنڈیکوتل صوبائی کابینہ اجلاس، لنڈیکوتل صحافیوں کا انتظامیہ کے خلاف احتجاج

0
732
لنڈیکوتل کے صحافی انتظامیہ کے خلاف مظآہرہ کررہے ہیں، اسسٹنٹ کمشنر نے مقامی صحافیوں کو کابینہ کی کوریج سے روک دیا

فاٹا وائس نیوز رپورٹ
لنڈیکوتل: ضلع خیبر کے تحصیل لنڈی کوتل میں صوبائی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر مقامی صحافیوں کا بھر پوراحتجاج، صوبائی کابینہ اورضلعی انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی،

خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس جمعرات کے روز قبائلی ضلع خیبرکی تحصیل لنڈی کوتل میں ہوا جس کے لئے پشاور ،جمرود اور باڑہ سے تو کثیر تعداد میں میڈیا کے نمائندوں کو کوریج کی غرض سے لایا گیا تھا تاہم لنڈ ی کو تل کے مقامی میڈیا کے نمائندوں کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی حتیٰ کے مقامی صحافیوں کو تحصیل کمپاؤنڈ کے اندر بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے خلاف لنڈی کوتل پریس کلب کے مقامی صحافیوں نے بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا لنڈی کوتل تحصیل کمپاؤنڈ کے باہر مقامی میڈیا کے نمائندوں نے صوبائی حکومت،کابینہ,وزیر اعلیٰ، وزیر اطلاعات اور ضلع خیبر اور لنڈی کوتل انتظامیہ کے آفسران کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور میڈیا پر پابندی نامنظور کے فلک شگاف نعرے لگائے اجلاس کے اختتام پذیر ہونے سے تھوڑی دیر پہلے اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل محمد عمران نے احتجاج کرنے والے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی اور اندر جاکر کوریج کرنے کی اجازت دی لیکن صحافیوں نے ان کی اپیل مسترد کر دی اور احتجاج کے طورپر واپس پریس کلب آئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لنڈیکوتل کے صحافیوں خلیل آفریدی، فرہاد شنواری اور احمد نبی شنواری نے کہا کہ مقامی قبائلی صحافیوں نے انتہائی نامساعد حالات میں پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ہے اور دہشت گردی کی جنگ میں بے پناہ مشکلات اور تکالیف سے گزرے ہیں اور آئے روز ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر ز کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کرتے رہے ہیں لیکن صوبائی کابینہ کے اہم ترین اجلاس کے موقع پر لنڈی کوتل میں ان کو کوریج کی اجازت نہیں دی گئی جس کی مذمت کرتے ہیں اور اس عمل کو آزادی صحافت،اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت کے لئے زہر قاتل اور نامناسب سمجھتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اگر ضلع خیبر اور لنڈی کوتل کی انتظامیہ نے اپنا امتیازی سلوک جاری رکھا تو مستقبل میں انتظامیہ کی سرگرمیوں سے بائیکاٹ کا اعلان کرینگے اوررپورٹنگ کے حوالے سے انتظامیہ کے ساتھ کوئی تعاؤن نہیں کیا جائیگا مقررین نے کہا کہ سو کے قریب صحافی پشاور، جمرود اور باڑہ سے لائے گئے تھے لیکن صرف مقامی میڈیا کے نمائندوں کو کوریج سے روکنا سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ اگر مقامی صحافیوں کو کوریج کی اجازت دی جاتی تو صوبائی کابینہ اور وزیر اعلیٰ کو علاقے کے اصل اور بنیادی مسائل سے آگاہ کر دیا جاتا اور یہ سب کچھ انتظامیہ کو منظور نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ وزراء سے پورے صوبے سے متعلق سوالات تو کئے گئے لیکن مقامی میڈیا کی غیر موجودگی میں ان سے علاقے کے حوالے سے کوئی سوالات نہیں ہو سکے مقامی سیاسی اور سماجی لوگوں نے بھی مقامی میڈیا کو کوریج کرنے سے روکنے پر انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی سخت مذمت کی اور اس عمل کو جمہوریت اور آزادی صحافت کے برعکس قرار دیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here