قبائلی گرینڈ جرگہ نے کمانڈنٹ کے فیصلہ کو مسترد کردیا

0
1499

فاٹا وائس نیوز ایجنسی رپورٹ
لنڈیکوتل: خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈیکوتل میں قومی مشران نے طورخم میں نئے پالیسی اور چیک پوسٹوں پر خاصہ دار فورس سے اختیارات لینے کا فیصلہ مسترد کر دیا ۔کمانڈنٹ خیبر رائفلز کے ساتھ قومی مشران کی مذاکرات ناکام ہو گئے ،آئندہ لائحہ عمل کیلئے قومی مشران نے کل دوبارہ جرگہ بلایا ۔

گز شتہ روز قومی مشران نے کمانڈنٹ خیبر رائفلز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لئے بغیر سیکوریٹی اہلکاروں کے مسلط کئے گئے فیصلہ قبائلی عوام کو نامنظور ہیں۔

 
ملک دریا خان ،ملک عبدالرزاق آفریدی ،ملک صلاح الدین ،ملک اسرار ،ملک خالد خان ،ملک فیض اللہ جان ،ملک ماصل خان شنواری ،ملک شاہ محمود ،ملک خان آفریدی،ملک نادر خان ،ملک آغاجان اوردیگر نے میڈیا کو بتایاکہ کمانڈنٹ کے ساتھ تمام اقوام کے مشران کا طورخم اور پاک افغان شاہراہ پر قائم چیک پوسٹوں کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی

انہوں نے کہا کہ مشران نے دوٹوک الفاظ میں طورخم میں نئے پالیسی اور چیک پوسٹوں پرخاصہ دار فورس سے اختیارات لینے کا فیصلہ مسترد کر دیا کیونکہ سیکورٹی فورسز پہلے فیصلے کر تے ہیں اور بعد میں مشاورت کیلئے بلاتے ہیں جو کسی صورت قبول نہیں قومی مشران نے کہا کہ پہلے سے قبائلی علاقوں میں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بہت زیا دہ بے روزگاری ہیں اب نئے پالیسیوں سے بے روزگا ری میں مذید اضافہ ہو جائیگا حکومت کو چاہئے کہ روزگار کے مواقع پیدا کئے جائے نہ کے روز گار چھین لیا جائے بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قبائلی عوام کو بے روزگا رکیا جا رہا ہیں

انہوں نے کہا کہ طورخم میں وی باک سسٹم لاگو کرنے سے پہلے تمام سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن کسی قسم کے سہولیات نہیں دی گئی جس کی وجہ سے وی باک سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے قومی مشران نے کہا کہ طورخم میں تمام فساد کا جڑ این ایل سی ہیں جب سے این ایل سی طورخم میں آئی ہیں اس کے بعد بے روز گاری میں اضا فہ ہوگیا ہیں ا سلئے طورخم سے فوری طور پر این ایل سی کو ختم کیا جائے انہوں نے کہاکہ پاکستان آئین کے تحت قبائلی علاقوں میں قبائلی مشران کے مشاورت اور اعتماد میں لئے بغیر کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ اب بھی علاقائی ذمہ داری کے تحت قومی مشران اور بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہیں لیکن نئے پالیسیوں اورفیصلوں میں قومی مشران کو اعتماد میں نہیں لیتے اس لئے تمام منصوبے اور فیصلے ناکامی سے دوچار ہو تے ہیں بلکہ اسطرح فیصلوں سے بدامنی پھیلی گی کیونکہ نوجوان بے روزگارہونے کے بعد کہا جائے گے قومی مشران نے کہا کہ خاصہ دار فورس کے اہلکار سسٹم کے تحت اپنے وسائل سے خرچے پورے کرتے ہیں اگر خاصہ دار فورس سے اختیارات لئے گئے تو پھر سسٹم نہیں چلے گا آخر میں قومی مشران نے آرمی چیف ،وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ قبائلی دشمن پالیسیاں واپس لے اور قبائلی عوام کے لئے روزگار کے مواقع پید اکریں بصورت دیگر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائینگے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here