قبائلی مشران جرگہ نے دشمنی کو دوستی میں بدل دیا

0
690

بلال یاسر
باجوڑ ایجنسی: جرگہ اور قبائلی مشران کی کوششوں سے دو متحارب گروپوں میں طویل دشمنی کاخاتمہ ہوگیا۔دشمنی کی وجہ سے ایک گروپ کا ایک فرد بھی جاں بحق ہوگیا تھا۔ عوام نے مشران کے اس جرگہ اور کار خیرکو خوش آئند قرارد یا ہے۔

تفصیلات کے مطابق باجوڑ ایجنسی کے دومتحارب گروپس کے درمیان طویل دشمنی دوستی میں بدل گئی۔ پو لیٹکل انتظامیہ ،جرگہ ممبران اور قبائلی عمائد ین کے مسلسل کوششوں کے بدولت پرانی اراضی دشمنی دوستی میں بدل گئی۔ تحصیل خار کے علاقے عنایت کلے میں دو متحارب گروپوں فریق اول سلمان ولد عبدالرحیم ، فاروق ولد معروف ساکنان عنایت کلے اور فریق دویم جاندار جان ولد قاسب جان ، جان نور ولد طور پاچاساکنان گنگ سلارزئی کے درمیان اراضی پر دشمنی چلی آرہی تھی جس کے نتیجے میں کافی نقصانات ہوئے تھے۔

دشمنی میں ایک قیمتی جان بھی ضائع ہوگئی تھی اور کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔اس سلسلے میں ایک بڑا گر ینڈ جر گہ عنایت کلے کے مقام پر منعقد ہوا۔تقریب میں اسسٹنٹ پو لیٹکل ایجنٹ خار عارف خان ، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نواگئی انوار الحق، عبد المنان کاکا جی، قاری عبد المجید، مولنا وحید گل، گل کر یم خان ، صوفی حمید ، ہارون رشید اور کثیرتعداد میں قبائلی عمائدین اور عوام نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خار عارف خان یوسفزئی اور دیگرنے کہا کہ دشمنی کسی تنازعہ کا حل نہیں اور ہم سب کو چاہئے کہ آپس کے تنازعات باہمی مزاکرات کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں جر گہ سسٹم کو مزید مظبوط کیا جائے گا تاکہ لو گ اپس کے اختلافات جر گوں کے زریعے ختم کر سکے۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی عمائدین نے کہا کہ ہم نے تمام قومی تنازعات کو ختم کرنیکا تہیہ کررکھاہے اور انشاء اللہ علاقہ سے تمام تنازعات کا خاتمہ کریں گے۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ اگر کسی فریق نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اُسے ایک کروڑ روپے جرمانہ کیاجائیگا اور ان کے گھر وجائیداد ضبط کئے جائیں گے۔اس موقع پر دونوں گروپوں کے رہنماؤں نے بغلگیر ہوکر آئندہ کیلئے بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے کا عہد کیا۔ دونوں گروپوں کے رہنماؤں نے تمام رنجشوں کو بھلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے نئی زندگی شروع کرنے کااعلان کیا۔باجوڑ ایجنسی کے عوام نے دونوں گروپس کے درمیان دوستی کا خیر مقد م کیا ہے اور علاقائی تنازعات کے خاتمے کیلئے قبائلی عمائدین کی کوششوں کو سراہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here