قبائلی طلباء کو تعلیمی اداروں میں تحفظ فراہم کیا جائے: باجوڑ سیاسی اتحاد

0
609

نمائندہ فاٹاوائس نیوز ایجنسی
خار: ملک کے تعلیمی اداروں میں قبائلی بچوں کو تحفظ فراہم کرکے احمد شاہ شہید کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور باجوڑ میں احمد شاہ کے نام سے تعلیمی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فاٹا میں یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی کیوجہ سے یہاں کے طلباء ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں حصول تعلیم کیلئے جاتے ہیں لیکن وہاں بھی اُن کو تحفظ فراہم نہیں۔

ان خیالات کا اظہار باجوڑ سیاسی اتحاد کے صدر اور احمد اشاہ شہید کے چچا پروفیسر محمد بادشاہ نے باجوڑ پریس کلب میں اپنے خطاب کے دوران کیا اس موقع پر سیاسی اتحاد کے قائدین اور نگ زیب انقلابی ،مولانا وحید گل ،حاجی گل کریم ،گل افضل ،ڈاکٹر خلیل ،حاجی خان بہادر ،محمد حمید صوفی عطاء اللہ خان لالا،انوار الحق و دیگر بھی موجود تھے اُنہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے احمد شاہ شہید کے قاتلوں کوگرفتار کرنے کیلئے انتھک محنت کی ہیں لیکن تاحال قاتلوں کوگرفتار نہیں کیا گیااُنہوں نے باجوڑ ایجنسی میں ڈگری کالجز کے عدم تعمیر اور چھ ہزارا قومی شناختی کارڈز بندش کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایجنسی بھر میں جگہ جگہ چیک پوسٹوں کی موجودگی عوام کیلئے وبال جان بن چکی ہیں جبکہ دوسری طرف انتظامیہ کے بے تحاشہ جُرمانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہیں پورے ایجنسی میں قائم کیٹیگری اے ہسپتال میں گریڈ 19 کے صرف دو خالی آ سامیاں یہاں کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے ناکافی ہیں جس کیوجہ سے یہاں کے مقامی ڈاکٹرز ایجنسی سے باہر ڈیوٹیاں دیکر شدید مشکلات کے شکار ہیں اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت احمد شاہ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ مزید تیز کرے اور ایجنسی میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر ڈگری کالجز سمیت پرائمری تعلیمی اداروں کی تعمیرپر عائد پابندی ختم کی جائے ۔ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے کراچی یونیورسٹی کے طالب علم احمدشاہ شہید کے چچا پروفیسر محمد بادشاہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احمدشاہ کے نام سے برخلوز کالج یا کوئی اور تعلیمی ادارے ان کے نام منسوب کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here