عبد الرحیم شینواری شہید کی کہانی

0
387

نصیب شاہ شینواری
دھشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں پاکستانی اداروں اور سیکوریٹی فورسز کو مالی وجان نقصان اٹھانا پڑا اسی طرح اس جنگ میں قبائلی عوام نے بھی ہزاروں کی تعداد میں جانوں کی قربانی پیش کردی ہے اور اب تک ان قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 
عبد الرحیم شینواری سکنہ پیروخیل لنڈیکوتل 9نوسالہ ایک ننھا سا بچہ تھا اور ایک نجی سکول کے پرائمری سکول میں پڑھتا تھا، عبد الرحیم شینورای کے والد نواز کے مطابق وہ بہت ذہین تھا اور اپنے کلاس کے ٹاپ تین پوزیشن ہولڈرز بچوں میں ایک تھا۔

والدین کو بچے بہت ہی عزیز ہوتے ہیں ، بالکل اسی طرح عبد الرحیم شینواری بھی اپنے ماں باپ کو بہت پیارا تھا لیکن ان کے والدین کو کیا پتہ کہ یہ پیارا بچہ بہت جلدی ان کا ساتھ چھوڑ دینے والا ہے۔ 
25جولائی 2014کی شام تھی اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ تھا جب عبد الرحیم شینواری اس فانی دنیا

سے چلے گئے، کس طرح وہ موت کی منہ میں چلے گئے ، یہ بہت دردناک کہانی ہے، عبد الرحیم شینواری کے والد کا لنڈیکوتل میں ایک چھوٹا سا دوکان ہے جو ان کے خاندان کا وسیلہ رزق و روزگار ہے۔ 
اسی دن عبد الرحیم نے اپنے والد کے ساتھ ضد کیا تھا کہ میں بھی بازار جاوں گا اور اسی طرح باپ نے اپنے

عبد الرحیم شہید کی آخری دیدار

بیٹے کی ضد پوری کی۔ لیکن بیچارے والد کو کیا پتہ تھا کہ وہ کسی قاتل گولیوں کا نشانہ بنے گا۔

لنڈیکوتل بازار میں روزہ افطار کرنے کے بعد نواز پنے بیٹے عبد الرحیم کے ساتھ ایک ٹیکسی گاڑی میں پیروخیل کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں علاقہ کاریگر اشخیل کے قریب سیکوریٹی فورسز نے گاڑی کو مشکوک سمجھ کر اچانک فائرنگ شروع کی جس سے عبد الرحیم شینواری اور نواز کا ایک دوسرا بتھیجا شدید زخمی ہوگئے۔

 
عبد الرحیم شینواری کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، چند دن پشاور ہسپتال میں زیر علاج تھا لیکن زخم بہت گہرے اور شدید تھے جس کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوگئے۔ 
عبد الرحیم شہید کے والد کے مطابق انھیں ابھی تک کسی ادارے یا حکومتی اہلکار نے عبد الرحیم شہید کے بے رحمانہ قتل کے بعد ان کے ساتھ کسی قسم کی مالی امداد نہیں کی ہے۔

 
اگرچہ عبد الرحیم شہید کے والدین کے ساتھ مالی امداد سے تو ان کا پیارا بچہ ان کوواپس نہیں مل سکتا لیکن ان کے والدین کی تو کم ازکم کچھ حوصلہ افزائی ہوتی، اعلی حکام سے اپیل ہے اگر عبد الرحیم شہید کے قتل کے متعلق تحقیقات نہیں کرسکتے تو کم ازکم ان کے والدین کا تو اتنا حق بنتا ہے کہ ان کے ساتھ مالی تعاون کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here