طورخم ،خوگا خیل تنازعہ پرامن طریقے سے ختم کرنا چاہتے ہیں: خوگا خیل مشران

0
399

فاٹا وائس نیوز رپورٹ

لنڈیکوتل: زکریا شنواری اور پی ٹی آئی کے رہنماء عبدالرزاق شنواری نے خوگہ خیل قوم کے درجنوں کشران اور مشران کے ہمراہ لنڈی کوتل پریس کلب میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طورخم میں مسائل ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ڈی سی خیبر محمود اسلم وزیر کے ساتھ سینیٹر تاج محمد آفریدی کی قیادت میں بات چیت ہوئی تھی جہاں چار نکات رکھے گئے تھے جس میں یہ طے کیا گیا کہ 4جون 2015 کا معاہدہ برقرار رکھا جائے,طورخم زمین لیز کے سالانہ دو کروڑ میں 10فیصد اضافہ کیا جائے, فیز ون کو خالی کیا جائے اور معاہدے والی جگہ کی ڈیمارکیشن کی جائے, زکریا شنواری اور عبدالرزاق شنواری نے کہا کہ این ایل سی اور پولیٹکل انتظامیہ 4جون 2015 والا معاہدہ ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کے لئے قوم خوگہ خیل کسی صورت تیار نہیں انہوں نے کہا کہ خوگہ خیل قوم کے جن سرکاری مراعات یافتہ ملکان اور نوجوانان خوگہ خیل نے بالائی سطح پر حکام کے ساتھ مزاکرات کئے ہیں دراصل وہ قوم خوگہ خیل کے نمائندے نہیں اور پولیٹکل انتظامیہ کے اے سی کے کہنے پر سرکاری پروٹوکول میں گئے تھے جس کے لئے رات کی تاریکی میں انتظامیہ کے آفسران نے منصوبہ بندی کر لی تھی زکریا شنواری نے کہا کہ چند مراعات یافتہ ملکان کے کہنے پر ساری خوگہ خیل قوم کے مفادات کو قربان نہیں کیا جا سکتا اور اس سے قوم کے اندر انتشار پیدا ہو سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ساری خوگہ خیل قوم کو اعتماد میں لیا جائے بصورت دیگر وہ احتجاج کی راہ پر چل نکلیں گے انہوں نے کہا کہ سینیٹر تاج محمد آفریدی کی قیادت میں ڈی سی خیبر محمود اسلم وزیر کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے گئے تھے لیکن اچانک انتظامیہ نے دیگر چند افراد سے ملکر سارا ماحول خراب کر دیا انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر سے تمام علاقوں اور خیبر پختون خوا کے لوگوں کا روزگار, کاروبار اور مفاد وابستہ ہے اس لئے کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے لوگوں کے مفادات اور کاروبار کو نقصان پہنچے۔

.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here