درخت لگانا ایک قومی فریضہ بھی اور سرمایہ بھی

0
1330

عمران شنواری
دنیا میں تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیا ں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں جس کی وجہ سے صورتحال بگڑتی جا رہی ہیں موسمی توازن متاثر ہونے سے انسانی زندگی میں بھی تیزی سے متاثر ہو تی جا رہی ہیں تاہم تر قیا تی یا فتہ ومہذب ممالک نے اپنے ہاں جنگلات کے تحفظ کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرانے میں کامیابی حاصل کی اور یوں اپنے عوام کو خوشگوار ماحول کی فراہمی میں اپنے حصہ کا کردار بخوبی آگاہ کیا۔

اگر پورے ملک پاکستان میں دیکھا جائے تو ہمارا صوبہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ملک کا جنگلات کا 42فیصد یہاں پر موجود ہے ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن جنگلات کی دولت سے مالا مال ہیں بد قسمتی سے فروغ جنگلا ت کیلئے ماضی میں جس قدر کام ہو ناچاہئے تھا وہ نہ ہو سکا درخت کٹتے گئے اور ماحولیا تی توزان بگڑتا چلا گیا لیکن خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف حکومت بننے کے بعد اس طرف خاص توجہ دی گئی اور کے پی کے میں شجر کاری مہم کو سونامی نام دیکر کروڑوں پو دے لگا دئیے جس کی ثمرات سے انے والی نسلیں لطف اندوز اور مستفید ہونگی ۔ 

اگر اس سلسلے میں فاٹا یعنی قبائلی علاقہ جات کو دیکھا جائے تو یہاں پر کوئی کام نہیں ہوا بلکہ قدرتی طور پر جو جنگلات ہیں ان کو بھی بے دریغ کاٹا دیا جا رہاہیں، شمالی وزیرستان ،باجوڑ ،کرم اور خیبر ایجنسی میں دور افتادہ علاقہ تیراہ قدرتی جنگلات سے مالا مال ہیں لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کی وقت بھی درختوں کو بے دریغ کا ٹا گیا بلکہ ٹی دی پیز کے واپسی کے بعد انکو حکومت نے وہ سہولیات نہیں دئیے جن کی ضرورت تھی اس لئے وہاں قومی سطح پر ٹی ڈی پیز کو یعنی ایک گھرانے کو ایک نختر کی درخت کاٹنے کی جازت دی گئی تاکہ وہ ان سے اپنے گھر کو پھر سے آباد کریں۔ 
اس وقت بھی ہزاروں درخت کاٹے گئے لیکن بعد میں ان پر سختی سے پابندی لگا دی گئی فاٹا میں جتنے جنگلات ہیں ان پر حکومت کا کوائی کنٹرول نہیں ہے کیونکہ وہ قوموں کی ملکیت ہو تی ہیں اس سال محکمہ جنگلات کی تعاون سے باجو ڑ مہمند اور خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل انتظامیہ کی تعاون سے شجر کا ری مہم زرو وشور سے شروع کر رکھی ہیں اور اس میں ہر مکتبہ فکر لوگوں کو دعوت دی گئی ہیں خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈیکوتل میں تحصیلدار شمس اسلام نے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کیلئے شجر کا ری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے سوشل میڈیا پر اور مختلف علاقوں میں تقریبا ت کا اہتمام کیا اور (ایک گھر ایک درخت )اور (یو کس لس بوٹی )کے نعرے لگائے اور تحصیل دفتر میں ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد کیا قومی مشران فلاحی سماجی تنظمیوں کے رہنماوں سیاسی ومذہبی قائدین کے علاوہ میڈیا کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور تجاویز پیش کئے کہ کس طرح شجر کا ری مہم کو کامیاب کرائیں گے لنڈیکوتل میں پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ تمام مکاتب فکر لوگوں کے علاوہ طلباء نے بھی شجر کا ری مہم میں بڑھ چڑ کر حصہ لیا اور پولیٹیکل

تحصیلدار شمس اسلام نے محکمہ جنگلات کی تعاون سے علاقے میں تقریبا 43000 ہزار مختلف قسم کے پودے تقسیم کئے جس میں 1500نختر 2100فروٹ کے پودے اور ہزاروں کی تعدا الاچی کی پودے تقسیم کئے اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات اور پولیٹیکل انتظامیہ افسران سے تعاون کی اپیل کی کہ وہ پودے خرید کر علاقے میں تقسیم کریں شجر کاری مہم کا افتتاح گز شتہ ہفتے لنڈیکوتل اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے کیا اس کے بعد دور افتادہ علاقوں بازار ذخہ خیل اور لوئے شلمان اور لنڈیکوتل کے مختلف علاقوں خیبر ذخہ خیل اور شینواری میں شجرکاری مہم جا ری ہیں جہاں پر فلاحی تنظیموں کے درجنوں رضاکا ر بھی حصہ لے رہے ہیں اس سلسلے میں خیبر یوتھ فورم کے صدر بخت علی شاہ آفریدی نے بتا یا کہ پہلی بار لنڈیکوتل میں شجر کا ری مہم میں لوگ شوق سے حصہ لے رہے ہیں جس کی وجہ مہم کامیابی سے جا ری ہیں انہوں نے کہا کہ درخت لگا نا صدقہ جا ریہ ہیں اور اس سے علاقے کے موسم پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے اور زیادہ بارشیں بھی ہونگے انہوں نے کہا کہ لنڈیکوتل میں پہاڑ خشک ہیں اور محکمہ جنگلات کو چاہئے کہ وہ اس میں زیا دہ سے زیا دہ پودے لگائے اور انکی حفاظت کیلئے قومی سطح پر کمیٹیاں بنا دی جائے تاکہ لوگ خود انکی حفاظت کریں بخت علی شاہ نے کہا کہ انکی تنظیم خیبر یوتھ فورم اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں انکے علاقے کیلئے لاکھوں پودوں کی ضرورت ہیں اس حکومت بھر پور تعاون کریں تاکہ آنے والے نسلیں اس سے مستفید ہو سکے آخر میں انہوں نے پولیٹیکل انتظامیہ لنڈیکوتل کا شکرایہ ادا کیا کہ انہوں نے اس اہم مہم میں بھر پور کردار ادا کیا 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here