خیبر ایجنسی دوردرارز علاقوں میں ڈاکٹرز ڈیوٹی نہیں کرتے

0
1041

سدھیر احمد آفریدی
انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی میں اس وقت 4 بڑے ہسپتال ہیں جن میں لنڈی کوتل ، جمرود ڈوگرہ باڑہ اور لوڑہ مینہ کے ہسپتال شامل ہیں جبکہ خیبر ایجنسی میں ٹوٹل22 ڈسپنسریاں ،13 بی ایچ یوز اور10 سی ایچ سی یعنی کمیونٹی ہیلتھ سنٹرزہیں اور اگر ان کے ساتھ سول ڈسپنسریاں بھی شامل کی جائیں تو ان ہیلتھ سنٹروں کی کل تعداد62 بنتی ہے محتاط اندازے کے مطابق خیبر ایجنسی کی تینوں تحصیلوں میں ڈاکٹروں کی تعداد 98 کے لگ بھگ ہے جبکہ محکمہ صحت کے ایک باخبر اہلکار کے مطابق خیبر ایجنسی میں ایل ایچ ویز یعنی لیڈی ہیلتھ ورکرزکی کل تعداد 120 ہے اور اسی طرح ڈسپنسروں کی تعداد 400کے لگ بھگ ہے

ذرائع کے مطابق اس وقت وقت جمرود اور ڈوگرہ باڑہ میں ماہرین ڈاکٹروں کی تعداد 4,4 ہے جبکہ لنڈی کوتل میں ماہرین ڈاکٹروں کی تعداد 9 کے قریب ہے لنڈی کوتل میں کل ڈاکٹروں کی تعداد30 سے اوپر ہے یہ بھی معلومات ملی ہیں کہ جمرود سول ہسپتال میں اس وقت 3 سینکشنز ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ 33 کے قریب ایسے بھی ڈٖاکٹرز جمرود سول ہسپتال میں براجمان ہیں جن کی ڈیوٹیاں کہیں دور دراز علاقوں جیسے کم اور لوئے شلمان، کرمنہ اور بازار کے بی ایچ یوز میں لگائی گئی ہیں لیکن جمرود میں قابض ڈاکٹرز دور دراز کے علاقوں میں خدمات سرانجام دینے سے کتراتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنی سہولت کی خاطر جمرود سول ہسپتال میں ڈیرے ڈال دےئے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں بعض اوقات اگر ان کے ساتھ سختی کی جائے اور ان کو روٹیشن سسٹم کے تحت کسی بی ایچ یو میں تعینات بھی کر دیا جاتا ہے تو بہت اوپر سے مبینہ طور پر سفارشات لے کر آتے ہیں اور اپنی ڈیوٹیاں اور تعیناتی منسوخ کروادیتے ہیں جس کی وجہ سے آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے یہ بھی ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں سول ہسپتال جمرود کے لئے 9 عام امراض کے ڈاکٹروں جنہیں میڈیکل آفیسرز بھی کہتے ہیں ان کی تعیناتی کا حکم ملا ہے اور اسی طرح جمرود کے سول ہسپتال میں4 ماہرین ڈاکٹروں کی پوسٹنگ اور تعیناتی کی ہدایت بھی کر دی گئی ہے تاہم ابھی تک محکمہ صحت فاٹا ڈائریکٹریٹ کی طرف سے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو اہے محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق ڈسپنسریوں اور بی ایچ یوزکو باقاعدگی سے میڈیسن ملتی ہیں جبکہ ایک اور ذمہ دار اہلکار کے مطابق ڈسپنسریوں اور بی ایچ یوز کو بہت کم ترین میڈیسن ملتی ہیں اور چونکہ جمرود سنٹر سے میڈیسن کی سپلائی کی جاتی ہے تاہم وہاں بھی اس وقت میڈیسن کی مقدار بہت کم ہے اس لئے ڈسپنسریوں اور بی ایچ یوز کو بہت کم دوائی ملتی ہیں جس کی وجہ سے آئے روز لوگ شکایات بھی کرتے ہیں محکمہ صحت فاٹا ڈائریکٹریٹ کے ذرائع کے مطابق امسال میڈیسن کی خریداری نہیں کی گئی ہے جو کہ جلد ہی کی جائیگی اور پھر دوبارہ بھر پور انداز میں میڈیسن کی سپلائی شروع کی جائیگی راقم نے خود لنڈی کوتل کے دور آفتادہ علاقوں جیسے کم شلمان اور کرمنہ کے بی ایچ یوز کے دورے کئے ہیں اور وہاں جا کر معلوم ہوا ہے کہ کرمنہ اور کم شلمان کی دونوں بی ایچ یوز میں ڈاکٹرز بلکل نہیں آتے ہیں اورسارا کام وہاں میڈیکل ٹیکنیشنز چلاتے ہیں ان دونوں بی ایچ یوز بشمول دیگر میں میڈیکل آفیسرز اور ایل ایچ ویز کی ڈیوٹیاں تو لگائی جاتی ہیں تاہم کوئی وہاں آتا نہیں اس لئے وہاں کام کرنے والے میڈیکل ٹیکنیشنز یا ڈسپنسرز سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور ان کو بمشکل چھٹی ملتی ہے بعض ڈسپنسریوں یا ہیلتھ سنٹروں کی عمارتیں بھی بوسیدہ ہیں جو کہ کسی بھی وقت زلزلے میں گر سکتی ہیں (خدا نہ کریں) اس طرح ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل کی جو نئی عمارت بنا دی گئی ہے اس کی تعمیر بھی غیر معیاری کی دی گئی ہے اور اگر لنڈی کوتل ہسپتال کے ڈاکٹروں کے بنگلوں کا حال دیکھا جائے تو بہت ہی برا ہے ذرائع کے مطابق کئی بار لنڈی کوتل ہسپتال میں ڈاکٹروں کی رہائش گاہوں کو ا زسر نو تعمیر کرنے اور ان کو محدود کمروں کی رہائشی فلیٹس میں تبدیل کر کے دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے سروے اور فیزیبیلیٹی تیار کی گئی ہیں اور اس کے ساتھ نرسنگ ہاسٹل اور پیرا میڈکس کے لئے بھی رہائشی فلیٹس تعمیر کروانے کا ارادہ تو ظاہر کیا گیا ہے تاہم ابھی تک عملی طور پر کچھ دکھائی نہیں دیتا یہ بھی سنا ہے کہ فاٹا کے اندر کام کرنے والے محکمہ صحت کے ڈاکٹروں اور دیگر اہلکاروں کے لئے پہلے ہی ایک بڑے الاؤنس منظور کر دی گئی ہے لیکن پھر بھی وہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بھاگتے نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کل کے ڈاکٹروں کو لوگ قصائی جیسے نا مناسب الفاظ کے ساتھ پکارتے ہیں جہاں بھی کوئی بی ایچ یو یا ڈسپنسری بنائی گئی ہے وہاں لوگوں کی آبادی کافی زیادہ ہے اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خیبر ایجنسی سمیت فاٹا کے دیگر علاقوں میں قائم ہسپتالوں اور صحت کے مراکز میں معمولی امراض جیسے نزلہ ،زکام، بخار اور کھانسی کا علاج ہی کروایاجاتا ہے جبکہ دیگر سنگین نوعیت کے امراض کے علاج کے لئے لوگ اپنے مریضوں کو علاج کی غرض سے پشاور کے بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں پہنچا دیتے ہیں جہاں علاج اگر مہنگا بھی ہے تو معیاری ضرور ہے اور پشاور کے مقابلے میں فاٹا کے اندر قائم لیبارٹریز کے رزلٹس بھی ناقابل بھروسہ اور غلط ہوتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اور سرکاری اعلیٰ حکام فاٹا میں تعمیر و ترقی اور عوام کی سہولت اور خوشحالی کے جو دعوے کرتے ہیں وہ سب جھوٹ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قبائلی عوام حکومتی اور سرکاری حکام کے اعلانات اور دعوؤں کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندہ سمجھتے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آئے روز قبائلی عوام ہر محکمے اور ادارے کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیں قبائلی عوام اگر ایک طرف حکومت اور فاٹا سیکریٹریٹ سے مایوسی اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں وہیں وہ اپنے منتخب نمائندوں سے بھی مایوس ہیں اور آئندہ الیکشن میں نئے چہرے آزمانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی مشکلات کی کوئی سبیل نکل آسکے خیبر ایجنسی کے ان بڑے ہسپتالوں اور بی ایچ یوزکے اندر اگر صفائی کا برا حال دیکھا جائے تو وہاں کوئی اپنے مریض کو ایک دن کے لئے بھی نہیں ٹہراتا اگرچہ صفائی نصف ایمان ہے مگر افسوس کہ ہم سب بحیثیت مجموعی صفائی پسند نہیں اور جہاں بھی موقع ملے گندگی پھینک دیتے ہیں اور پھر شکوے خاکروں سے کرتے ہیں کہ وہ صفائی نہیں کرتے یہاں اس بات کا زکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ خیبر ایجنسی میں صحت کے مراکز میں یا پھر پولیو ورکروں کی تعیناتی میں میرٹ ، سنیارٹی اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جاتے اور ہر کوئی ذمہ دار یا بااثر شخص اپنے ہی کسی قریبی رشتہ دار اور عزیز کے لئے ہی جگہ تلاش کرکے تعینات کرواتے ہیں اور اس طرح مستحق اور باصلاحیت افراد مایوس ہو کر پیچھے رہ جاتے ہیں اور اکثر قبائلی ڈپلومہ ہولڈرز تو اوور ایج ہونے کے قریب ہیں اس لئے یہاں حکومت سے مطالبہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ فاٹا کے تمام ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں جہاں کہیں بھی کوئی پوسٹ خالی ہے وہاں سینیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر تجربہ کار مقامی افراد کو فوری طور پر بھرتی کیا جائے تاکہ ایک طرف غریب قبائلی تعلیم یافتہ اور ڈگری یا ڈپلومہ ہولڈرز نوجوانوں کو روزگار کا موقع ملیں اور دوسری طرف ان نئے افراد سے دور دراز کے علاقوں میں بہترین خدمت لی جا سکتی ہے دیکھتے ہیں اس تحریر پر سرکار توجہ دیتی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here