آفسران سوشل میڈیا کوریج کو اہمیت دینے لگے 

0
900

سدھیر احمد آفریدی
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں بطور صحافی کسی بھی سرکاری پروگرام میں بغیر کسی باضابطہ براہ راست دعوت کے کسی بھی سرگرمی کی کوریج کے لئے نہیں جاتا اورد وسری بات یہ کہ کسی درباری رپورٹر کے کہنے پر بھی ایسا نہیں کرتا کہ میں ان کے کہنے پر جاکر اپنے ہاتھوں اپنی تذلیل کروں اور اس سے یقیناً ہماری ساکھ پہلے بھی کافی خراب ہو چکی ہے اگر کسی سرکاری آفیسر کو مین سٹریم میڈیا میں اپنی سرگرمی کی کوریج کی ضرورت ہو تو وہ بہتر جانتے ہیں کہ میڈیا کے نمائندوں کو کس طرح دعوت دینی چاہئے اور اگر ہم بن بلائے ( ما مشمیرہ در گڈ یم ) کے مصداق خود اپنی حاضری لگاتے ہیں اور پھر کسی بھی سرکاری آفیسر کی کوریج بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پر کرتے ہیں تو اس کو بھی مناسب نہیں سمجھتا اگر کسی آفیسر کو سوشل میڈیا میں کوریج کی ضرورت ہو تو یہ خدمت تو عام لوگوں اور اپنے اہلکاروں سے بھی لی جا سکتی ہے سوشل میڈیا تو غیر مصدقہ خبروں اور پوسٹس کی وجہ سے پہلے ہی اپنی افادیت خراب کر چکی ہے اور اگر خود میڈیا کے نمائندے بھی اپنے مین سٹریم میڈیا میں کوریج کے بجائے سوشل میڈیا پر تشہیر اور خبریں چلانے پر تکیہ کریں تو پھر عام لوگوں اور میڈیا کے نمائندوں میں فرق ہی ختم ہو کر رہ جاتا ہے کافی عرصے سے یہ دیکھتا رہا ہوں کہ ہماری پولیٹیکل انتظامیہ کے بعض آفسران بھی مین سٹریم میڈیا سے زیادہ سوشل میڈیا پر اپنی کوریج کو اہمیت دینے لگے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ بچت کریں اور مفت میں میڈیا کے نمائندے ان کی برائے نام سرگرمیوں کی کوریج کریں یقیناً سوشل میڈیا پر خبروں کی صداقت مبہم ہوتی ہے اور اس پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے بسا اوقات دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کے صارفین اور استعمال کنندے کوئی خبر سوشل میڈیا پر جلدی میں ڈال دیتے ہیں لیکن جب ان کو معلوم ہو جاتاہے کہ ان کی خبر غلط اور بے بنیاد ہے تو اس کو فوری ڈیلیٹ کر جاتے ہیں اور یا پھر اس پوسٹ کو ھائیڈ یعنی چھپا دیتے ہیں مگر کچھ ذہین لوگ ایسی پوسٹس کی بلا تاخیر سکرین شاٹ لیتے ہیں اور اس طرح اپنے پاس ایک ریکارڈ محفوظ کر لیتے ہیں مین سٹریم میڈیا کے نمائندے ذمہ داری، ضابطہ اخلاق اور صحافتی اصولوں کے مطابق کوئی خبر چلاتے اور شائع کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس سوشل میڈیا پر بے بنیاد، غیر اخلاقی اور صحافتی اصولوں سے ہٹ کر خبریں پوسٹ کی جاتی ہیں جس سے بسا اوقات غلط فہمیاں، حسد ، بغض و کینہ پیدا ہوتے ہیں اور بعض اوقات تو نوبت جھگڑوں تک پہنچ جاتی ہے اس لئے میں صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے قارئین کو مشورہ دینا چاہونگا کہ وہ سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی خبروں پر بھروسہ اور اعتماد نہ کریں اور اگر کوئی زیادہ ہی مجبور ہو کہ سوشل میڈیا استعمال کریں تو اس میں سنجیدگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کریں اور بغیر تصدیق کے کوئی خبر یا معلومات پوسٹ نہ کریں جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوں اور اگر سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی کردار کشی کا یہ سلسلہ چلتا رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے اور اب تو ویسے بھی سائبر کرائم کے نام سے کچھ قوانین بنا دےئے گئے ہیں جس کی زد میں کوئی بھی آسکتا ہے عام لوگوں سے تو کوئی شکوہ نہیں کہ وہ تو تفریح اور وقت گزاری کی غرض سے بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں لیکن آفسوس کہ ان کو یہ معلوم نہیں کہ اس کا نام صرف سوشل میڈیا ہے درحقیقت یہ غیر سوشل اور غیر ذمہ دار میڈیا ہے یعنی فیس بک، ٹویٹر وغیرہ جس کو اکثر اوقات ذمہ دار لوگ بھی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جس طرح مین سٹریم میڈیا کے اپنے اصول اور قواعد ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کی تمام سائٹس اور پیجیز کے لئے بھی کوئی اصول وضع کرنا چاہئے تاکہ لوگ اس کے استعمال کے وقت سنجیدگی، اخلاقیات اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں مثال کے طور پر مین سٹریم میڈیا میں فوج اور عدلیہ پر قانون کی رو سے بلا جواز تنقید کافی مشکل کام ہے جبکہ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر کوئی کچھ بھی کہہ سکتا ہے جس سے کوئی پوچھنے الا نہیں واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہوئے یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ پولیٹیکل انتظامیہ کے آفسران سوشل میڈیا پر انحصار کرنے والے میڈیا کے نمائندوں کو اگر اہمیت دینگے اور صرف اپنے کسی نمائشی کام یا دورے کی کوریج سوشل میڈیا پر کروانے کی غرض سے میڈیا کے سینئر ترین صحافیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ وشل میڈیا کے صارفین کو مدعو کرینگے تو باضمیر ، اصول پسند اور باصلاحیت صحافی حضرات اس چیز سے اپنے آپ کو دور رکھیں گے اور پھر حقیقت جو بھی ہوگی اس کو مین سٹریم پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر وہی کچھ لکھیں گے اور کہیں گے جو بر سر زمین حقیقت ہوگی اور اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہوگی اور اس طرح ہمارے اکثر میڈیا کے نمائندگان کرتے بھی چلے آرہے ہیں پولیٹیکل انتظامیہ کی شروع سے یہ دانستہ کوشش رہی ہے کہ وہ اہل قلم اور کارکن صحافیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے درباری صحافیوں پر تکیہ کرتی رہی ہے تاکہ ایک طرف صحافیوں کی صفوں میں بے اتفاقی اور بد گمانی پیدا ہو اور دوسری طرف کوریج پر خرچ کئے جانے والے پیسوں کو بھی بچایا جا سکے بھئی ہم تو پروفیشنل صحافی ہیں جہاں بھی جائیں گے باضابطہ دعوت پر جائیں گے اور دوسری بات یہ کہ کسی درباری نام نہاد صحافی کے کہنے پر نہیں جائیں گے آفسوس تو اس پر بھی کہ ہم میں سے اکثر میڈیا کے نمائندگان سیاسی اور دیگر سماجی افراد کے پروگرامات میں باضابطہ دعوت دینے کے باؤجود بھی جانے سے گریز کرتے ہیں اور مخصوص افراد اور آفسران کے خوشامد گر بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز ہمیں سوشل میڈیا پر گالیاں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں میں پولیٹیکل انتظامیہ کو یہ بھی مشورہ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ اگر وہ اتنے ہی سوشل میڈیا پر کوریج کے شوقین ہیں تو میڈیا کے نمائندوں کو مدعو نہ کریں بلکہ خود اپنی وال پر کوئی پوسٹ بمع تصویر لگا کر یہ ضرورت اور شوق پورا کیا کریں اس سے ان کو بچت بھی ہوگی اور کوئی ان سے ناراض بھی نہیں ہوگا اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے فاٹا اور خیبر ایجنسی میں قبائلی عوام کو بے پناہ مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تمام قبائلی عوام تمام تر بنیادی سہولیات اور حقو ق سے محروم ہیں جن کو اگر گننا شروع کیا جائے تو یہ صفحات ہی کم پڑ جائیں اس لئے اہل قلم حضرات ان عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کر کے ان کو حکمرانوں کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ دیکھ کر غور کر سکیں اور اگر ہم اہل قلم خوشامد گر بن کر رہ جائیں تو اس سے قوم کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہوگا اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا کے نمائندگان عوام کی اصل تکالیف اور پریشانیوں کو بیان کریں جس سے اللہ تعالیٰ بھی خوش اور راضی ہونگے اور عوام کی ہمدردیاں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں تاریخ نے کبھی درباری قلم کاروں اور خدمت گزاروں کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا ہے آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم حقیقی عوامی مسائل پر چشم پوشی کر کے غفلت او ر لاپرواہی نہیں کرینگے اور نہ ہی حقائق چھپائیں گے اور یہ سب کچھ نیک نیتی ، قومی جذبے کے ساتھ اور آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا چاہئے ہمیں صرف مسائل پر نظر نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہمارے قومی وسائل، پوٹینشل اور ان کے تقسیم کار کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے اور اگر میڈیا، حکمران اور با اختیار متعلقہ آفسران اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور نمائشی سر گرمیوں کے بجائے اس قوم کے اندر اعتماد پیدا کریں، ان کو ویژن دیں ، منصوبہ بندی کریں اور لائحہ عمل طے کریں تو من حیث القوم ہم اپنی اصل منزل پر پہنچ سکتے ہیں اور پھر ہماری راہ میں کوئی رکاؤٹ نہیں ڈال سکتا 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here