حکومت قبائلی عوام کو آئینی اور بنیادی انسانی حقوق دیں: مہرین آفریدی

0
1059
مہرین آفریدی: ممبر اقوام متحدہ (پاکستان) ایڈوائزری گروپ برائے خواتین

نصیب شاہ شینواری
پشاور: اقوام متحدہ (پاکستان) کے ایڈوائزری گروپ برائے خواتین کے ممبر مہرین افریدی نے فاٹا وائس کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کہا ہے کہ منظورپشتین نے پشتونو کی تحفظ کے لئے جو تحریک شروع کی ہے ا ن کی حمایت کرتی ہے لیکن یہ لوگ اس تحریک کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے سے گریز کریں اور صرف پشتونوں کے تحٖفظ اور حقوق کے لئے آواز اٹھائیں۔

 
مہرین آفریدی نے کہا کہ فاٹا سے منتخب نمائندے بھی فاٹا اصلاحات کے حوالے سے متفق نہیں ہیں جس کی وجہ سے فاٹا اصلاحات کو نقصان پہنچ رہا ہے اور اب تک فاٹا اصلاحات کو نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا اگر فاٹا کے منتخب نمائندے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے متفق ہوتے تو اس کا نٖفاذ بھی جلدی ممکن ہوسکتا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ آپس میں متفق نہیں ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ حال ہی میں اس نے پشاور ہائی کورٹ میں پارلیمنٹ میں قبائلی خواتین کے لئے مختص سیٹوں کے لئے رٹ بھی دائر کی ہے۔ مہرین افریدی نے کہا کہ جب سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹااصلاحات کمیٹی کے ممبرز نے لنڈیکوتل کا دورہ کیا تو میں نے قبائلی خواتین کی ایک نمائندہ کی حیثیت سے اس کمیٹی کے سامنے قبائلی خواتین کی مطالبات کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فاٹا اصلاحات میں سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

 
مہرین افرید ی نے کہا کہ اس وقت قبائلی عوام کے لئے پاکستانی آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی بہت ضرور ی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ جو حقوق عام پاکستانی شہریوں کو حاصل ہیں ،ان قوانین و حقوق کو فاٹا تک توسیع دی جائے تاکہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوسکے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here